کراچی: 

کھجور مارکیٹ کے ہر دوسرے بیوپاری کامال ایران میں پھنس گیا ہے تاجر اس وقت شدید اذیت سے گزررہے ہیں۔

محمد صابر کا کہنا تھا کہ ایران سے مال اگر اب روانہ بھی کردیا جائے تو مارکیٹ پہنچتے پہنچتے رمضان سر پر آچکے ہوں گے اس کے اس کے بعد اس کھجور کا کوئی خریدار نہیں ہوگا اور پھر یہ مال لاگت سے 75فیصد کم قیمت پر ہی فروخت ہوگا اس وقت مارکیٹ کھلی ہوئی ہے اور گڈز ٹرانسپورٹ بھی دستیاب ہے پورے پاکستان میں کھجور کی قلت ہے اور بیوپاری رابطے کررہے ہیں کہ مال بھجوایا جائے لیکن مال دستیاب نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران نے اپنی سرحد کسی ملک سے بند نہیں کی پاکستان سمیت پڑوسی ملکوں نے از خود سرحد بند کی ہے تاکہ وبا کو روکا جاسکے اگر افغانستان کی طرح ایران سے بھی کھانے پینے کی اشیا کے تبادلے کے لیے سرحد کھولی جائے تو پاکستان میں کھجور کی قیمتوں میں استحکام لایا جاسکتا ہے محمد صابر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ کرونا کی وبا کا شکار ہونے والے کھجور کے تاجروں کی دار رسی کی جائے اور نقصانات کے ازالے کے لیے ریلیف پیکج دیا جائے۔